ہمارا دیسی درخت ہے۔ پورے پاکستان میں اس کے درخت پائے جاتے ہیں۔ کراچی کے اکثر گلی کوچوں اور سڑکوں پر اس کے درخت لگے نظر آتے ہیں۔ جدید سائنسی ریسرچ نے یورپ اور امریکہ میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔
جاپان کی ایک معروف دودھ کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا Morinaga کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے
جو مورنگا کی غذائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔ یہ کم و بیش تین سو بیماریوں کا علاج ہے۔ لیکن صد افسوس کہ ہمارے یہاں اسے بکریاں کھا رہی ہیں۔ اگر لوگوں کو اس کے فوائد کا پتہ چل جائے تو سوہانجنا کے درختوں پر ایک پتہ باقی نہ رہے۔
سُوہانجنا ایک کمیاب درخت ہے۔ سوہانجنا کے استعمال سے کوئی بُرا ردِ عمل (reaction) بھی نہیں ہوتا۔
سُہانجنا یا سُوہانجنہ یا سوجہنی کا درخت بھارت، پاکستان اور افغانستان میں ہمالیہ پہاڑ کی شاخوں کے قریبی علاقوں میں اُگنے والا درخت ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ سُہانجنا نامیاتی قدرتی برداشت (endurance) اور طاقت کا ضمیمہ ہے۔ اس کی پھَلیاں اور جڑیں بھی مفید ہیں لیکن سب سے زیادہ کار آمد سُہانجنا کے پتے ہیں۔ یہ بچوں، جوانوں اور بُوڑھوں سبھی کے لیے یکساں مفید ہے۔
سُہانجنا کا استعمال یاد داشت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) بھی پچھلی 4 دہائیوں سے بطور سَستا (health supplement) استعمال کر رہی ہے۔
سُہانجنا کے فوائد :
1- جسم کی قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے۔
2- دماغ اور آنکھوں کو غذا مہیاء کر کے قوت بڑھاتا ہے۔
3- جسم کے خلیے (cell) کی ساخت کو فروغ دیتا ہے۔
4- قدرتی صفرائے جامد رقیق مادہ (cholesterol serum) کو فروغ دیتا ہے۔
5- چہرے پر جھریوں اور باریک لکیروں کے بننے کو کم کرتا ہے۔
6- جگر اور گردے کے کام کو فروغ دیتا ہے۔
7- جلد کو خوبصورت بناتا ہے۔
8- جسمانی طاقت کو بڑھاتا ہے۔
9- ہاضمہ درست رکھتا ہے۔
10- مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کے طور پر کام کرتا ہے۔
11- جسم کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے۔
12- صحت مند خون کے نظام کو فروغ دیتا ہے۔
13- سوزش کو روکتا ہے۔
14- صحتمندی کا احساس دلاتا ہے۔
15- جسم میں شکر (Sugar) کی سطح قائم رکھتا ہے۔
جن وجوہات کی بِنا پر سُہانجنا کی بطور بہترین غذا تعریف کی جاتی ہے، اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سُہانجنا کو وِٹامِنز، معدنیات اور دوسری انسانی ضروریات سے خوب بھرا ہے۔ اس کے 100 گرام خُشک پتوں میں خوراک کی مندرجہ ذیل مُفید اشیاء پائی جاتی ہیں:
پروٹین ۔ ۔ ۔ دہی سے 9 گُنا۔
وِٹامِن اے ۔ ۔ ۔ گاجروں سے 10 گُنا۔
پوٹاشیئم ۔ ۔ ۔ کیلے سے 15 گُنا۔
کیلشیئم ۔ ۔ ۔ دُودھ سے 17 گُنا۔
وِٹامِن سی ۔ ۔ ۔ مالٹے سے 12 گُنا۔
لوہا ۔ ۔ ۔ پالک سے 25 گُنا۔
اس میں مخالف تکسیدی عامل (anti-oxidant) کی بھاری مِقدار بمع بِیٹا کارَوٹِین، قرسِیٹِن موجود ہے۔
اس میں کلَورَو جِینِک ایسِڈ ہے جو چینی (Sugar) جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے ذیابیطس کے مرض میں بہتری آتی ہے۔
پتے، پھلیاں اور بیج جَلَن کو کم کرتے ہیں، چنانچہ معدے کے الّسر کے علاج میں مُفید ہیں۔
اس کا میٹھا تیل تَلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سلاد میں کچا بھی کھایا جاتا ہے۔ تیل فَنگس اور آرتھرائٹس (Fungus & Arthiritis) کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
کولیسٹرول کو صحتمند حدود میں رکھتا ہے۔
سنکھیا (Arsenic) کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ یہ ایسے خامرے اور کیمیائی اجزا پر مشتمل ہے جو دماغ کو بھرپور صحت، بینائی کی تیزی، یاداشت میں بہتری، دماغی سکون، ڈپریشن سے نجات دیتے ہیں۔
"پوری دنیا میں سوہانجنا کو ایک کرشماتی پودے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بہت سی بیماریوں میں اس کے بیج اور تیل روایتی طور پر علاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
"اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے : ”اگر تمہارے ہاتھ میں بیج ہے اور اس کو بونے کے وقت یہ خبر ملی کہ قیامت آنے کو ہے اور ہر چیز فنا ہو جائے گی تو بھی اس بیج کو بو دو“ (مسند احمد:13240)
”جو مومن بھی درخت لگائے گا جب تک انسان، پرندے، جانور اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کے حق میں صدقہ جاریہ ہو گا“ (بخاری:6012)
"اٹھو ! اور اپنے پیارے نبیؐ کی حدیث کو زندہ کر دو ۔ ۔ ۔ لگاؤ اپنے ہاتھوں سے مورنگا ۔ ۔ ۔ عام کر دو یہ کرشماتی پودا اپنے دیس میں"۔
مورنگا کس طرح استعمال کیا جائے؟
سوہانجنا کے درخت سے پتے یا شاخیں توڑ لیجیے۔ پتے شاخوں سے الگ کیجیے اور ان کو دھو کر خشک کر لیجیے۔ سائے میں پھیلا کر سکھا لیجیے۔ جب پتے سوکھ جائیں تو ان کو گرائنڈر میں پیس کر پاؤڈر بنا لیجیے اور کسی ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھیے۔ روزانہ صبح یا شام ایک چائے کا چمچہ بھر پاؤڈر ڈیڑھ کپ پانی میں خوب اچھی طرح جوش دیجیے اور پھر چائے کی طرح پی لیجیے۔ چاہیں تو مٹھاس کے لیے ایک چمچ شہد بھی ملا سکتے ہیں۔ آپ اس مشروب میں گرین ٹی بھی ملا سکتے ہیں۔
ابتداء میں ایک چائے کا چمچ پینا شروع کیجیے بعد میں آپ دن میں دو مرتبہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیجیے کہ یہ جسم سے زہریلے مادّے نکالنے کی طاقت رکھتا ہے اور زیادہ مقدار میں لینے کی صورت میں دست آور ہو سکتا ہے۔
اس میں تین سو بیماریوں کا علاج موجود ہے جن میں سے بیشتر ایسی بھی ہیں جو لا علاج ہیں۔
بلڈ پریشر، کولیسٹرول، سوزش، جگر کی خرابی، شوگر، اینٹی آکسیڈنٹ یعنی بڑھاپے اور جھریوں کو روکنے والا، جوڑوں میں ورم اور سوزش، موٹاپا، دل کے امراض اور دماغی صحت کے لیے بہترین ہے۔ یادداشت اور نظر کی کمزوری دور کرتا ہے۔ دیسی حکمت میں اس کے پتوں کے رس سے سرمہ بنایا جاتا ہے جس کے لگانے سے چشمہ اتر سکتا ہے۔ دماغ میں سیروٹونن اور ڈوپامائن کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے ڈپریشن ختم ہو جاتا ہے۔ جگر کو تمام زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے جس کے نتیجے میں صاف شفاف صحتمند خون، شاداب جلد اور چہرہ، اینٹی بیکٹیریل، زخموں کو جلد بھرنے کی صلاحیت، دنیا کے مہنگے سے مہنگے ملٹی وٹامن کیپسول اور ٹیبلیٹ اور فوڈ سپلیمنٹ اس کے دو چمچ کے سامنے پانی بھرتے ہیں۔ کیونکہ دماغ کو بھرپور غذائیت فراہم کرتا ہے اس لیے بالوں کی نشو و نما کے لیے بھی بہترین۔ طبیعت میں خوشی کا احساس اور زندہ دلی پیدا کرتا ہے۔ جو بچے نحیف اور کمزور ہیں، جن کا وزن نہیں بڑھتا ان کے لیے بہترین فوڈ سپلیمنٹ ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کرنے والے اس کے دو چمچے استعمال کر کے ہر طرح کی کمزوری اور پیچیدگیوں سے یقینی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اس درخت کو اپنے صحن، کیاری، لان، گھر کے باہر، گلی سڑک پر، پارک میں اور ہر وہ جگہ جہاں لگایا جا سکتا ہے، لگائیے۔ یہ پیغام دوسروں تک پہنچائیے۔ خود بھی سوہانجنا کی چائے پیجیۓ اور تمام گھر والوں کو بھی پلانا عادت بنا لیجیے۔ ان شاء اللہ فوائد آپ خود دیکھیں گے۔


